ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جے این یو میں’منٹوکے نادر خطوط‘ کی رسم رونمائی 

جے این یو میں’منٹوکے نادر خطوط‘ کی رسم رونمائی 

Fri, 06 Oct 2017 21:32:48    S.O. News Service

نئی دہلی ،6؍اکتوبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )جواہرلعل نہرویونیورسٹی کی ٹفلاس بلڈنگ میں آج یہاں فاروق اعظم قاسمی کے مرتبہ مجموعہ ’’منٹوکے نادر خطوط‘‘کی رسم رونمائی ہوئی ۔اس میں مجموعے میں 33وہ خطوط شامل ہیں ، جو پہلے شائع ہونے والے منٹو کے خطوط کے کسی مجموعے میں نہیں تھے۔ فاروق اعظم قاسمی نے اپنے مجموعے میں خطوط شامل کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ منٹو 1933سے قبل ہی خطوط لکھنے لگے ، حالانکہ ان کی اس کتاب سے پہلے لوگوں کو یہ معلوم تھا کہ منٹونے1937میں خط لکھنا شروع کیا تھا ۔ اسی طرح ’منٹوکے نادر خطوط ‘کے مرتب نے منٹو کے نئے مکتوب الیہم کا انکشاف کیاہے۔واضح رہے کہ فاروق اعظم قاسمی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں ۔ اس کتاب سے پہلے بھی ان کی کئی کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں ۔ ان کی اہم کتابوں میں ’تخلیق کی دہلیز پر‘اور ’آو، قلم پکڑنا سیکھیں‘ہیں۔ ان کا مرتبہ مجموعہ’ منٹو کے نادر خطوط‘ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے شایع کیا ہے ۔ رسم رونمائی کے موقع پر دہلی یونیورسٹی سے تشریف لایے ریسرچ اسکالر غلام نبی کمار اور امیر حمزہ نے بہترین تجزیہ وتبصرہ پیش کیا، جب کہ سلمان عبد الصمد نے تعارفی کلمات کے ساتھ ساتھ زبانی طور پر فاروق اعظم قاسمی کے مرتبہ مجموعے کا عمومی تجزیہ کیا۔ اس کے علاوہ پروگرام میں موجود طلبا نے مشترکہ طورپر اردو کے تناظر میں اہم گفتگو کی ۔ تلفظ کے مسائل ومباحث کو سامنے رکھتے ہوئے ان کا ماننا تھا کہ تلفظ کا مسئلہ عموماً کم عملی اور بے توجہی سے جڑا ہے ۔ علاقائی اثرات سے کہیں زیادہ تلفظ کی غلطیوں میں بولنے والوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔ تلفظ کے علاوہ بھی بہت سے مسائل زیربحث آئے ،وہاں پر موجود طلبا نے جن پر اچھی گفتگو کی۔ پروگرام میں شاہنواز قمر، طارق کاظمی، فرقان عالم، مسعود اظہر، محبوب صہیب قاسمی، نادر اعجاز، مشتاق احمد صدیقی، کنیز زینب، حسن اصغر، طریق العابدین او ر شاہنواز وغیرہ نے شرکت کی۔غورطلب ہے کہ بے سمت رفتار ادبی فرنٹ طلبا کا پلیٹ فارم ہے ، جس کے تحت ماہنامہ ادبی نشستیں ہوتی ہیں اور وقفہ وقفہ سے ادبی مباحثو ں کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ اس فرنٹ کے تحت طلبا جہاں کیمپس میں ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں ، وہیں بیرون کیمپس بھی ادبی ماحول بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔


Share: